شدید موسمی حالات کا معمول انسانی بقا کی صلاحیت کا امتحان بن چکا ہے ،سی جی ٹی این سروے

موسمِ گرما کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں شدید موسمی حالات بار بار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث پوری انسانیت کو بقا سے متعلق بڑھتے ہوئے اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، 83.1 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ انتہائی موسمی حالات اب پوری انسانیت کے لیے ایک حقیقی چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کا باہمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہی مؤثر راستہ ہے۔

سروے میں شامل 83.3 فیصد افراد نے رائے دی کہ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح 82.7 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ انتہائی موسمی حالات اب صرف مقامی قدرتی آفات تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرنے والا ایک عالمی ماحولیاتی مسئلہ بن چکے ہیں۔

سروے کے نتائج کے مطابق 72.6 فیصد افراد کے نزدیک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، کاربن کے اخراج کو محدود کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی اقدامات ہیں۔

مزید برآں، 92.3 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ عالمی موسمیاتی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں، بلکہ موسمیاتی ٹیکنالوجی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے تجربات اور پیشگی انتباہی نظام سے متعلق وسائل کا تبادلہ بھی ناگزیر ہے۔ سروے میں 88.7 فیصد افراد نے اس بات کی حمایت کی کہ ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی پذیر ممالک کی معاونت کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں