چین میں کھپت “توسیع اور معیار میں بہتری” کے اہم مرحلے میں داخل

ین نے 14 جولائی کو “کھپت میں توسیع کے لیے پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ” جاری کر دیا۔ اس منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ 2030 تک چین کی مجموعی صارف مارکیٹ کا حجم مزید وسعت اختیار کرے گا، کھپت کے ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی اور اقتصادی ترقی میں کھپت کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین میں اشیائے صرف کی مجموعی خوردہ فروخت 50.1 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، جو پہلی مرتبہ 50 ٹریلین یوآن کی حد سے تجاوز کر گئی۔ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی صارف مارکیٹ ایسے مرحلے میں داخل ہوگی جہاں توجہ صرف حجم میں اضافے پر نہیں بلکہ کھپت کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی مرکوز ہوگی۔ اس عرصے کے اختتام تک اشیائے صرف کی مجموعی خوردہ فروخت تقریباً 60 ٹریلین یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے۔

“کھپت میں توسیع کے لیے پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ” بزرگوں کی نگہداشت، بچوں کی پرورش، ثقافت و سیاحت، صحت اور دیگر شعبوں میں عوام کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ منصوبے میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور خدمات کی فراہمی میں اضافہ، کھپت کے پلیٹ فارمز اور ذرائع کو مزید وسعت دینے، متعلقہ سہولیات کو بہتر بنانے اور معاون و ضمانتی اقدامات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ عوام کے معیارِ زندگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں