28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ اس کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے متعدد اڈوں اور اسرائیل سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی ناظرین میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 93.9 فیصد شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کی اس فوجی کارروائی کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے، اور فوری طور پر فوجی کارروائی روک کر کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
سروے کے نتائج کے مطابق 86.8 فیصد شرکاء نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکہ کی فوجی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے “امریکی بالادستی” کا مظہر قرار دیا۔ مزید برآں 90 فیصد شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ پہلے ہی نازک حالات سے دوچار مشرقِ وسطیٰ میں امن کا عمل مزید متاثر ہوگا۔ اس کے علاوہ 94.7 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ “امریکی بالادستی” کے باعث بین الاقوامی قوانین اور عالمی تعلقات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس سے کثیرالجہتی نظام پر عالمی اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی اور عالمی اسٹریٹجک استحکام متاثر ہوگا۔
