مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد متعدد ممالک نے یکم اپریل کو ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا۔
کروشیا کے وزیرِ معیشت آنٹے شوشنیار نے اعلان کیا کہ حکومت نے لازمی ذخائر سے 35 ہزار ٹن ڈیزل مارکیٹ میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔
اسی روز ملائشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے بتایا کہ کابینہ کے فیصلے کے تحت 15 اپریل سے تمام سرکاری اداروں اور متعلقہ کمپنیوں میں مکمل طور پر ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی جائے گی۔
مزید برآں، آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے قومی خطاب میں خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے معاشی اثرات طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے ایندھن کے محتاط استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی۔
