25 فروری کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی مرحلے میں چینی نمائندے نے جاپان، فن لینڈ، لتھوانیا اور آسٹریلیا سمیت بعض ممالک کی جانب سے کونسل کے پلیٹ فارم کے مبینہ غلط استعمال پر سخت احتجاج کیا۔
چینی نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ ممالک انسانی حقوق کونسل کو سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے مسلسل بے بنیاد معلومات گھڑتے اور پھیلاتے ہیں تاکہ چین پر الزامات عائد کیے جائیں اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ چین اس طرزِ عمل کی بھرپور مخالفت کرتا ہے اور اسے قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔
چینی مندوب نے مزید کہا کہ جاپان اور چند دیگر ممالک دوسروں کی انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل تنقید کرتے ہیں، جبکہ خود جاپان کا ریکارڈ تاریخی اور انسانی حقوق کے حوالے سے متنازع رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جاپان نہ اپنے ماضی کے جرائم پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے، نہ مظالم کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور نہ ہی متعلقہ معاہداتی اداروں کی تشویش کو اہمیت دیتا ہے۔
چین نے جاپان پر زور دیا کہ وہ خود احتسابی کا مظاہرہ کرے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی اصلاح کرے، دیگر ممالک کی انسانی حقوق کی صورتحال پر غیر ضروری تبصرے بند کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے مکالمے اور تعاون کو متاثر کرنے والے اقدامات سے فوری گریز کرے۔
