بیجنگ میں چین کے سالانہ “ٹو سیشنز” اجلاس کی کوریج کرنے والے غیر ملکی صحافیوں نے چین کے 2026 کے منظرنامے کو “مطابقت پذیر”، “مستقبل” اور “قابل اعتماد” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی صلاحیت چین کی نمایاں طاقت ہے۔
یہ آراء اس وقت سامنے آئیں جب سات بین الاقوامی صحافیوں سے کہا گیا کہ وہ چین کے 2026 کے منظرنامے کو ایک لفظ میں بیان کریں۔
سما ٹی وی کے پاکستانی رپورٹر عرفان اشرف نے چائنا اکنامک نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین کو ایک لفظ میں بیان کرنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے اس کے لیے “سپر حیرت انگیز” کا لفظ منتخب کیا۔ ان کے مطابق معلوماتی ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور زراعت جیسے شعبوں میں تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔
عرب چین ٹی وی کے ایوبو نے چین کے لیے “اے آئی پلس” کی اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ چین تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ روبوٹکس بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
روزیاسکایا گزیٹا کی کالم نگار سوتلانا زادیرہ نے چین کو “مطابقت پذیر” قرار دیتے ہوئے ماحولیاتی مثال دی کہ بقا ہمیشہ زیادہ مطابقت رکھنے والوں کو ترجیح دیتی ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چین میں ٹیکنالوجی ہر جگہ محسوس ہوتی ہے۔
کلارین کے صحافی نیکولاس مانچینی نے چین کو “مستقبل” قرار دیا اور کہا کہ چین میں ٹیکنالوجی، معاشرت اور سیاست میں جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہ جنوبی امریکہ کے ممالک کے لیے مستقبل کی جھلک ہے۔ انہوں نے خاص طور پر روبوٹکس پر زور دیا۔
ڈیلو سے وابستہ فری لانس صحافی اور لکھاری موجکا پسیک نے چین کو “قابل اعتماد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے غیر متوقع ہو رہی ہے، جبکہ چین کی تیار کردہ بہت سی مصنوعات عالمی منڈی میں انتہائی مسابقتی قیمت پر دستیاب ہیں۔
ڈوما کی صحافی تانیا گلوچچیوا نے مستحکم اقتصادی کارکردگی، واضح پالیسی نتائج اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چین کو “عالمی طاقت” قرار دیا۔ ان کے مطابق چین الیکٹرانکس سے لے کر اسمارٹ مشینوں تک ہر طرح کی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گواٹیمالا کے آیڈوکمینٹا کے ہارولڈو گوزمین نے چین کو “امن” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ چین “امن سے رہتا ہے” اور “کسی سے نہیں لڑتا”۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے اے آئی کو نمایاں قرار دیا اور بتایا کہ وائی ڈی فیکٹری کے دورے سمیت روبوٹکس، صحت اور زراعت کے شعبوں میں ترقی انہیں بہت متاثر کن لگی۔
