چینی وزارتِ خارجہ کا جوہری ہتھیار رکھنے سے متعلق جاپانی بیانات پر ردِعمل

30 ستمبر کو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوجیاکھون نے معمول کی پریس کانفرنس کے دوران جاپان کے وزیرِ دفاع شین جیرو کوئزومی کے اُس بیان پر تبصرہ کیا، جس میں انہوں نے جاپان کی ’’سکیورٹی کی تین دستاویزات‘‘ میں ترمیم کے عمل کے دوران جوہری ہتھیاروں اور جوہری آبدوزوں کے حصول سے متعلق بات کی تھی۔

گوجیاکھون نے کہا کہ سب سے پہلے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ جاپان کے جوہری ہتھیار رکھنے کا معاملہ اس بات پر منحصر نہیں کہ جاپان اس موضوع پر بحث کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ جاپان ’’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘‘ کے تحت جوہری ہتھیاروں سے پاک ملک ہے، لہٰذا جوہری ہتھیار قبول نہ کرنا، انہیں تیار نہ کرنا، اپنے پاس نہ رکھنا اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کی ناقابلِ تردید ذمہ داری ہے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی سودے بازی کی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے رواں سال فروری میں ’’جوہری ہتھیاروں سے پاک رہنے کے تین اصول‘‘ پر قائم رہنے کے عزم کا دوبارہ اظہار کیا تھا۔ اسی طرح مئی میں ’’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘‘ کی جائزہ کانفرنس میں شریک جاپانی نمائندوں نے بھی متعدد مواقع پر اس بات کی تصدیق کی کہ ’’جوہری ہتھیاروں سے پاک رہنے کے تین اصول‘‘ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کے یہ بیانات ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں