شی جن پنگ نے چین اور مصر کے درمیان تعاون مزید گہرا کرنے پر زور دیا، مشرقِ وسطیٰ کے لیے تجویز پیش کر دی

شی جن پنگ کا چین، مصر تعاون مزید گہرا کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تجویز پر زور

چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز چین اور مصر پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید گہرا کریں اور موجودہ غیر یقینی بین الاقوامی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں چین۔مصر ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مسلسل آگے بڑھائیں۔

شی جن پنگ نے یہ بات مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کو اپناتے ہوئے خطے میں نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی حمایت کرتا ہے۔

دوطرفہ روابط اور تعاون کا فروغ

شی جن پنگ نے کہا کہ مصر 1956 میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا عرب اور افریقی ملک تھا۔ دونوں ممالک کی سابقہ نسل کے رہنماؤں نے قومی آزادی اور سامراج و نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد میں اپنی اپنی قوموں کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسی پائیدار دوستی کی بنیاد رکھی جو آج بھی مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران چین۔مصر تعلقات نے مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کی ہے اور مساوات و باہمی اعتماد، دوستی و باہمی سیکھنے، یکجہتی و باہمی حمایت اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون جیسی نمایاں خصوصیات حاصل کی ہیں۔

شی جن پنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے سربراہان کی رہنمائی میں چین۔مصر جامع تزویراتی شراکت داری نے تیز رفتار ترقی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ترقی و احیا، عوامی فلاح و بہبود کے فروغ اور بین الاقوامی انصاف و مساوات کے تحفظ کے حوالے سے یکساں یا قریب تر مؤقف رکھتے ہیں اور ان کی ترقیاتی حکمتِ عملیوں میں بھی قریبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ چین اور مصر کو ایک دوسرے کی مضبوط حمایت جاری رکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کے باہمی روابط کی رفتار برقرار رکھنی چاہیے، تمام شعبوں اور مختلف سطحوں پر تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے اور حکمرانی کے تجربات کے حوالے سے باہمی رابطوں اور سیکھنے کے عمل کو مضبوط بنانا چاہیے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے اپنی ترقیاتی حکمتِ عملیوں میں مزید ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بجلی، زراعت اور مواصلاتی ٹیکنالوجی جیسے روایتی شعبوں میں تعاون کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ سبز توانائی، برقی گاڑیوں، ایرو اسپیس، ڈیجیٹل معیشت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی جیسے نئے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا چاہیے اور ثقافت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت، کھیل اور دیگر شعبوں میں تبادلوں و تعاون کو جامع طور پر وسعت دینی چاہیے، جبکہ افراد کے باہمی تبادلے کو آسان بنا کر عوامی روابط کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔

شی جن پنگ نے سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے، سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی، انسداد بدعنوانی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کو گہرا کرنے، ایک دوسرے کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی مضبوط حمایت اور مشترکہ سلامتی کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے اور اقوام متحدہ اور برکس جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر رابطہ و تعاون بڑھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ چین۔عرب ریاستوں تعاون فورم اور چین۔افریقہ تعاون فورم کی ترقی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھاتے ہوئے یکطرفہ پسندی اور طاقت کے بل پر دباؤ ڈالنے کے اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے اور زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظامِ حکمرانی کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر شی جن پنگ کے تاریخی دورۂ مصر کا خیرمقدم کیا۔

السیسی نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم اور مثبت انداز میں ترقی کرتے رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نتیجہ خیز ثمرات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصر ایک چین کے اصول کی سختی سے پاسداری کرتا ہے اور چین۔مصر جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

السیسی نے کہا کہ مصر چین کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مالیات، سائنس و ٹیکنالوجی اور نئی توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے، فوجی و سکیورٹی روابط مضبوط بنانے اور عوامی سطح پر قریبی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقی اور خوشحالی میں بھی کردار ادا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے چین بین الاقوامی امور میں اہم اور تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔ مصر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر چین کے ساتھ رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے، عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے اور بین الاقوامی انصاف و مساوات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

دونوں سربراہانِ مملکت نے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون، مصنوعی ذہانت، اقتصادی و تجارتی امور اور صنعتی و سپلائی چین تعاون سے متعلق متعدد معاہدوں پر دستخط کی تقریب کا مشترکہ طور پر مشاہدہ کیا۔

دونوں ممالک نے جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا، جبکہ ڈیجیٹل معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں 20 سے زائد تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تجویز

مذاکرات کے دوران شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کے حوالے سے چار نکاتی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ سلامتی کی اندرونی قوت کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام کو اپنے معاملات کا خود مالک رہنا چاہیے اور بیرونی مداخلت کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کی امن و سلامتی کے حوالے سے مذاکرات مضبوط بنانے، مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کے امکانات تلاش کرنے اور اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کی جانی چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ میں متعدد تنازعات اور کشیدگی کے مراکز موجود ہیں اور ان کے درمیان گہرا تعلق ہے، اس لیے ان کے حل کے لیے بھی جامع اقدامات ضروری ہیں۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا بنیادی مرکز ہے اور اسے کسی صورت نظرانداز یا پسِ پشت نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی کے ذریعے مشترکہ سلامتی کی بنیاد مضبوط کی جانی چاہیے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کا بنیادی انحصار ترقی پر ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی کے تحفظ، ترقیاتی تعاون کو آگے بڑھانے، علاقائی ممالک کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کرنے، بتدریج باہمی اعتماد مضبوط کرنے اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خطے میں مشترکہ سلامتی کے لیے بین الاقوامی سطح پر رابطہ کاری مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کا منشور اور بین الاقوامی قانون بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔

شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی برادری، بالخصوص بیرونی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ کے معاملے میں دوہرے معیار کو ترک کرنا چاہیے، علاقائی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے اور خطے کے امن و استحکام کا تحفظ کرنا چاہیے۔

انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت پر بھی زور دیا۔

السیسی نے کہا کہ مصر مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے پر چین کے مستقل، غیر جانب دار اور منصفانہ مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر خطے میں کشیدگی کم کرنے، سیاسی ذرائع سے تنازعات اور اختلافات حل کرنے اور علاقائی سلامتی و ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی استحکام کے تحفظ اور نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کے امکانات تلاش کرنے کے لیے چین کے ساتھ رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں