چین کی اقتصادی ترقی کے مسلسل نئے، بہتر اور مثبت رجحان کی وجوہات کیا ہیں،سی ایم جی کا تبصرہ

اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے جولائی تک چین کے بنیادی معاشی اشاریوں، جن میں مینوفیکچرنگ، خدمات اور بیرونی تجارت شامل ہیں، میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی سرگرمیاں استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور اقتصادی ترقی مسلسل ایک نئی، بہتر اور مثبت سمت اختیار کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال نہ صرف چینی معیشت کی مضبوط لچک اور توانائی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ سست روی کا شکار عالمی معیشت کو بھی ایک اہم قوت محرکہ فراہم کر رہی ہے۔

رینمن یونیورسٹی آف چائنا کے اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر وانگ شیاؤ سونگ نے کہا کہ سال کے پہلے سات مہینوں کے دوران مختلف بیرونی جھٹکوں اور اندرونی مشکلات کے باوجود چین کی قیادت نے صورتحال کا درست اندازہ لگایا اور زیادہ فعال و مؤثر کلیدی پالیسیاں نافذ کیں۔ اصلاحات کو مزید گہرائی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا، اعلیٰ سطح کے کھلے پن کو وسعت دی گئی، جبکہ معاشرے کے مختلف حلقوں نے سائنس و ٹیکنالوجی میں جدت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی معیشت کی بنیاد مضبوط ہے، اس کے فوائد نمایاں ہیں، معیشت میں بھرپور لچک اور طاقت موجود ہے، جبکہ اس کی وسیع صلاحیتوں نے خطرات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کو مضبوط سہارا فراہم کیا ہے۔

موجودہ بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور چیلنجنگ ہے، جبکہ اندرونی طلب کی ناکافی صورتحال اب بھی نمایاں ہے اور معاشی ترقی کو متعدد خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، پہلے سات مہینوں کے اقتصادی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی معیشت کے استحکام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ترقی کی نئی قوتوں کے مسلسل ابھرنے، اصلاحات اور کھلے پن میں مزید وسعت اور میکرو پالیسیوں کی بڑھتی ہوئی مؤثریت کے ساتھ چین کی معیشت مسلسل نئی، بہتر اور مثبت سمت میں آگے بڑھتی رہے گی اور عالمی معیشت کے لیے مزید “چینی مواقع” بھی فراہم کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں