4 مارچ کو چینی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس کانفرنس میں جنیوا میں چین کا مستقل مشن کی جانب سے جنیوا میں “گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس” کے قیام سے متعلق حالیہ پیش رفت پر سوال کیا گیا۔
ترجمان ماؤ نِنگ نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں شی جن پھنگ نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا، جس کا مقصد زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم و نسق کے قیام کے لیے چینی دانش اور حل فراہم کرنا ہے۔ اس تجویز کے بعد سے اب تک اسے 150 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین نے اقوام متحدہ کے نیویارک ہیڈکوارٹر میں “گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس” کے قیام کی تجویز دی تھی، جسے اقوام متحدہ میں وسیع پذیرائی ملی۔
27 فروری کو چین نے جنیوا میں اس گروپ کا افتتاحی اجلاس منعقد کیا، جس میں 42 بانی ممالک سمیت تقریباً 60 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے عالمی نظم و نسق میں چین کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ گروپ جنیوا کے پلیٹ فارم پر روابط اور ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مکالمے اور تعاون کو فروغ دے گا۔
ماؤ نِنگ نے کہا کہ “گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس” کا نیویارک اور جنیوا میں قیام اور قلیل مدت میں اس کی مثبت پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو عالمی تقاضوں اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ ہے۔
