**شمال مغربی چین کے صوبہ شانشی** میں 7 جولائی کو **خشک علاقوں میں حیاتیاتی وسائل اور سبز و اسمارٹ زراعت سے متعلق بیلٹ اینڈ روڈ جوائنٹ لیبارٹری** کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔
یہ مشترکہ تحقیقی پلیٹ فارم **نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی** کی قیادت میں قائم کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کی **یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی، ایوب زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ** اور **سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی** شراکت دار اداروں کے طور پر شامل ہیں۔
مشترکہ تجربہ گاہ کے چینی ڈائریکٹر اور نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کے پروفیسر ژانگ لِکسن کے مطابق یہ تحقیقی پلیٹ فارم چھ اہم شعبوں پر کام کرے گا، جن میں جینیاتی وسائل اور ذہین افزائشِ نسل، اسمارٹ فصلوں کا انتخاب، زرعی ڈیٹا پلیٹ فارمز، ذہین کاشتکاری اور مویشی پروری، درست زرعی اراضی کا انتظام، اور پائیدار زرعی پیداوار کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جینیاتی وسائل اور افزائشِ نسل کے شعبے میں پاکستان، ازبکستان اور دیگر خشک علاقوں سے فصلوں کے جینیاتی نمونوں کا ابتدائی ذخیرہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں 120 سے زائد منفرد جرم پلازم وسائل شامل ہیں۔ ان وسائل کے لیے ایک معیاری جینیاتی بینک قائم کیا جا چکا ہے، جبکہ خلائی تغیرات اور **”انٹیلیجنٹ ڈیزائن”** پر مبنی ابتدائی افزائشی نظام بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گندم، سرسوں، تل، سبزیوں اور چارہ جات سمیت 11 نئی، اعلیٰ معیار کی اور موسمی دباؤ برداشت کرنے والی اقسام تیار اور منتخب کی جا چکی ہیں، جو جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے موزوں ہیں۔
سبز اور اسمارٹ زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پانی اور کھاد کے مربوط انتظامی نظام، تکنیکی و انتظامی فیصلہ سازی کے معاون نظام، اسمارٹ باغبانی، زرعی مشینری کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، اور فصلوں کی باقیات سے حیاتیاتی کھاد تیار کرنے سمیت متعدد جدید ٹیکنالوجیز تیار کی گئی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر بنا کر پاکستان، ازبکستان اور دیگر ممالک میں عملی طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔
پروفیسر ژانگ نے بتایا کہ خشک علاقوں میں اسمارٹ زراعت اور حیاتیاتی صحت سے متعلق ٹیکنالوجیز پر تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔ پہلا پروگرام 2026 کی دوسری ششماہی میں منعقد ہوگا، جس میں بیلٹ اینڈ روڈ کے شراکت دار ممالک سے 12 نوجوان محققین کو مدعو کیا جائے گا۔ نظریاتی تعلیم، عملی تربیت اور فیلڈ وزٹس پر مشتمل یہ پروگرام مقامی سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین کی استعداد کار بڑھانے اور تحقیق و ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ایوب زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل سائنس دان **حافظ سعد بن مصطفیٰ** نے چائنا اکنامک نیٹ کو بتایا کہ باہمی تعاون کی اہم ترجیحات میں جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مشینری کی منتقلی شامل ہے، جن میں پریسیژن سیڈ پلانٹرز، جدید ہارویسٹرز، بین الکاشت مشینری، کمبائن ہارویسٹرز اور جینیاتی وسائل کی پراسیسنگ کے خصوصی آلات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور محققین کی تربیت کے ذریعے استعداد کار میں اضافہ بھی تعاون کے اہم شعبوں میں شامل ہے۔
پروفیسر ژانگ کے مطابق دسمبر 2025 سے اب تک پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سمیت مختلف ممالک کے دس سے زائد پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو اس مشترکہ تجربہ گاہ میں داخلہ دیا جا چکا ہے۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے دو پی ایچ ڈی طلبہ چھ ماہ کے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لیے اس لیبارٹری میں شامل ہوئے، جبکہ چین کے پانچ پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو پاکستان میں فیلڈ انٹرن شپ اور زرعی ضروریات کے جائزے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس تعاون کے نتیجے میں دو ایس سی آئی انڈیکس تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جن میں مشترکہ تجربہ گاہ کو بنیادی تحقیقی ادارے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
کانفرنس کے دوران حیاتیاتی اور صحت بخش زرعی مصنوعات کی پیداوار سے متعلق ایک تحقیقی کتاب کی بھی رونمائی کی گئی، جس میں جدید بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے فصلوں کی کاشت اور مویشیوں کی پیداوار کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی **سندھ یونیورسٹی** اور **پنجاب یونیورسٹی** کے علاوہ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی ایک، ایک یونیورسٹی نے بھی باضابطہ طور پر **سلک روڈ ایگریکلچرل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ انوویشن الائنس** میں شمولیت اختیار کی، تاکہ زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور علمی تبادلے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
