12 فروری کو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے روزانہ کی پریس کانفرنس میں لائی چھنگ ڈے کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ریمارکس نے ایک مرتبہ پھر “تائیوان کی علیحدگی” سے متعلق ان کے مؤقف اور ضد کو واضح کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بات بھی عیاں ہو گئی ہے کہ وہ امن کو نقصان پہنچانے، بحران پیدا کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے والے فرد ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ “تائیوان کی علیحدگی” کا ایجنڈا ہی آبنائے تائیوان میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائی چھنگ ڈے چاہے کچھ بھی کہیں یا کریں، وہ اس تاریخی اور قانونی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے کہ تائیوان چین کی سرزمین کا حصہ ہے، اور نہ ہی وہ ایک چین کے اصول پر عالمی برادری کے موجودہ اتفاقِ رائے کو بدل سکتے ہیں۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ چین کے اتحاد کا تاریخی عمل ناقابلِ روک ہے اور یہ بالآخر مکمل ہو کر رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کرتے ہوئے علیحدگی کی کوششیں” اور “طاقت کے ذریعے چین کے اتحاد کی مخالفت” جیسے اقدامات یقیناً ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
