شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل شہزاد احمد خان نے چینی کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ زراعت، ٹیکسٹائل، قابلِ تجدید توانائی، مواصلاتی ٹیکنالوجی اور صارف اشیاء کی تیاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اپنے دوسرے مرحلے (2.0) میں داخل ہو چکا ہے۔
8 اپریل کو سوجو میں منعقدہ ایشیا انویسٹمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی معاشی تبدیلی اور طویل مدتی ترقی میں چینی کاروباری اداروں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ یہ فورم سوجو انٹرنیشنل ایکسپو سینٹر میں سی ایل این بی گیارہویں نیو انرجی انڈسٹری ایکسپو 2026 کے موقع پر منعقد ہوا، جس میں پاکستان، انڈونیشیا، ویتنام، ازبکستان اور منگولیا کے قونصل جنرلز نے شرکت کی۔
فورم میں علاقائی اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور صنعتی اشتراک پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ ایشیا عالمی ترقی کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور سرحد پار شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
قونصل جنرل نے پاکستان کی معاشی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی 26 کروڑ آبادی میں سے 64 فیصد نوجوان ہیں، جو ایک بڑی صارف منڈی اور ہنرمند افرادی قوت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سی پیک کی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 46 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبے مکمل ہوئے، 8,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھی اور تقریباً 2 لاکھ براہِ راست ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس سے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل میں واضح بہتری آئی۔ سی پیک 2.0 میں اب صنعتکاری، زرعی جدیدیت، آئی ٹی، تکنیکی جدت اور عوامی فلاح پر توجہ مرکوز ہے۔
اس موقع پر چائنا ایشیا اکنامک ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کی فارن انویسٹمنٹ ورکنگ کمیٹی کے صدر جوکے ژو نے آئندہ اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مئی میں ہانگژو میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جس میں فن ٹیک، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی سمیت آئی سی ٹی سرمایہ کاری پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال بھر کے دوران مختلف ایشیائی ممالک کے لیے وفود کے دوروں، پالیسی ٹریننگ اور قانونی معاونت کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
