کراچی(چائنا اکنامک نیٹ) سحر کے وقت، جب سورج کی پہلی کرنیں کراچی کی چھتوں کو چھوتی ہیں، تو 27 سالہ رضا اور ان کی اہلیہ مریم کا گھر خاموشی سے زندگی کی علامت بن جاتا ہے۔ ان کے گھر کی چھت پر نصب پندرہ فوٹو وولٹک پینلز، جو والدین کی جانب سے شادی کے تحفے کے طور پر دیے گئے تھے، بجلی پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور شہر کے مکمل طور پر جاگنے سے پہلے ہی ان کے روزمرہ معمولات کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
کراچی میں ہر سال شمسی توانائی سے متعلق کئی بڑی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں، جس کے باعث یہ شہر پاکستان کے دیگر حصوں کے مقابلے میں سولر انرجی کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل نوبیاہتا جوڑے کے والدین نے مشترکہ طور پر تقریباً آٹھ لاکھ پاکستانی روپے کی سرمایہ کاری کر کے ان کے نئے گھر میں چین میں تیار کردہ شمسی توانائی کا نظام نصب کروایا۔
اب یہ گھرانہ دن کے وقت شمسی توانائی پر انحصار کرتا ہے جبکہ غروبِ آفتاب کے بعد قومی بجلی کے نظام سے منسلک ہو جاتا ہے۔ ان کا ماہانہ بجلی کا بل جو پہلے تقریباً 60 ہزار روپے تھا، اب کم ہو کر صرف 24 ہزار روپے رہ گیا ہے۔ یہ نظام صرف تین دن میں نصب کیا گیا، مگر اس نے ان کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
پاکستان کو درپیش بجلی کا بحران جس میں لوڈشیڈنگ اور بلند نرخ شامل ہیں مستحکم بجلی کو ایک عیاشی بنا چکا ہے۔ تاہم، کم لاگت اور مؤثر چینی شمسی سلوشن کی دستیابی کے باعث صاف توانائی اب ایک دور کا خواب نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
چین کے صوبہ ژی جیانگ کے شہر نِنگبو میں ایک اسمارٹ انڈسٹری کمپنی میں کام کرنے والے پاکستان پی ایچ ڈی گریجویٹ جبران حسین نے کہا کہ اس جوڑے کے دوست بھی ہیں اور فوٹو وولٹائک صنعت کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاجیسے جیسے معیارِ زندگی بہتر ہو رہا ہے، گھروں میں برقی آلات کی تعداد بڑھ رہی ہے اور مستحکم بجلی کی ضرورت بھی۔ شمسی نظام نہ صرف صاف توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ طویل مدت میں بجلی کے اخراجات میں نمایاں بچت بھی کرتے ہیں۔
جبراں حسین نے بتایا کہ شادی سے قبل رضا کے گھر میں صرف دو ایئر کنڈیشنر اور محدود برقی آلات تھے، مگر نئے گھر میں منتقل ہونے کے بعد جوڑے نے فریج، واشنگ مشین اور برقی واٹر پمپ خریدے۔
“شمسی توانائی کی بدولت اب انہیں بجلی کے بل کی فکر نہیں رہتی۔
ان کے مطابق آج کراچی میں زیادہ تر نوجوان جوڑے گھر کی منصوبہ بندی میں سولر سسٹم کو شامل کر رہے ہیں۔ رضا اور مریم کا سولر سسٹم مقامی سطح پر درمیانے درجے کا سمجھا جاتا ہے: 15 سولر پینلزہر ایک کی گنجائش 585 واٹ ہے، جو تقریباً 8 کلو واٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرتا ہے، جو ایک چھوٹے خاندان کی روزمرہ ضروریات کے لیے کافی ہے۔ بڑے گھروں میں عموماً 10 کلو واٹ یا اس سے زیادہ کے سسٹمز نصب کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے اپنے گھر میں بھی کراچی میں 10 کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب ہے۔
جو صاف توانائی کبھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر تھی، آج وہ بہت سے پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
جیسے جیسے چین میں تیار کردہ صاف توانائی کے حل پاکستانی گھروں میں تیزی سے شامل ہو رہے ہیں، نوجوانوں میں گاڑی خریدنے سے پہلے سولر پینلز کے لیے بچت کرنا ایک نیا رجحان بھی بن رہا ہے۔ بعض خواتین اپنے قیمتی سونے کی زیورات فروخت کر کے چھت پر لگے اس “سن سائن بینک” میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ سولر پینلز اب محض توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مستحکم، انٹیلیجنس اور پائیدار مستقبل کی علامت بن چکے ہیں ۔
